سیلاب کا قہر
شمالی پنجاب کے ایک خوبصورت اور سرسبز گاؤں "کھیڑا میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ یہ گاؤں ایک دریا کے کنارے آباد تھا جس کا نام 'دریائے ہیران' تھا۔ گاؤں کی مٹی بہت زرخیز تھی اور یہاں کے لوگ محنت کش تھے۔ کسانوں کی زندگی کا انحصار زیادہ تر اسی دریا پر تھا، جو ان کی فصلوں کو سیراب کرتا تھا۔ گاؤں میں ہر طرف ہریالی اور خوشحالی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔
![]() |
سیلاب کی تبا ہی |
وں کا سب سے بزرگ شخص دادا رحمت تھا، جو اپنی دانائی اورگا تجربے کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ وہ گاؤں والوں کو ہمیشہ نصیحت کرتے تھے کہ دریا کی عزت کرو اور اس کے غصے کو کبھی نہ بھولو۔ ان کی یہ بات زیادہ تر لوگ ہنسی میں اڑا دیتے تھے، مگر وہ جانتے تھے کہ یہ دریا کبھی بھی اپنا رخ بدل سکتا ہے۔
ایک دن آسمان پر کالے گھنے بادل چھا گئے۔ دوپہر سے شروع ہونے والی بارش رات گئے تک طوفانی ہو چکی تھی۔ بجلی چمک رہی تھی اور بادل زور سے گرج رہے تھے۔ یہ منظر کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔ گاؤں کے لوگ اپنے گھروں میں دبکے ہوئے تھے اور خوف ان پر طاری تھا۔ رات کے قریب دو بجے، جب بارش کی شدت میں اضافہ ہوا، تو اچانک ایک زوردار گرج کی آواز آئی۔ اس کے بعد ایک خوفناک خاموشی چھا گئی۔ کسی کو نہیں معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔
اگلی صبح، سورج کی پہلی کرن نے ایک خوفناک منظر پیش کیا۔ دریا کا پانی کنارے توڑ کر کھیتوں اور گھروں کی طرف بڑھ چکا تھا۔ یہ کوئی عام سیلاب نہیں تھا، یہ ایک سیلابی ریلا تھا جو اپنے ساتھ سب کچھ بہا لے جانے کے لیے بے تاب تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے آدھا گاؤں پانی میں ڈوب گیا۔ کئی لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر پناہ لے چکے تھے اور اپنی جان بچانے کے لیے پکار رہے تھے۔
اس خوفناک صورتحال میں گاؤں کا ایک نوجوان لڑکا "عمران" سب سے آگے تھا۔ عمران نہ صرف محنتی تھا بلکہ وہ بہت بہادر بھی تھا۔ اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر لوگوں کی مدد کرنا شروع کی۔ انہوں نے لکڑی کے تختے اور رسیاں اکٹھی کیں اور ایک چھوٹی کشتی بنائی۔ سب سے پہلے انہوں نے بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو کشتی میں بٹھایا اور محفوظ جگہ پر پہنچایا۔
اسی دوران، ان کی نظر ایک گھر پر پڑی جو پانی میں آدھا ڈوب چکا تھا اور ایک بوڑھی اماں اپنے پوتے کے ساتھ چھت پر پھنسی ہوئی تھی۔ پانی کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ وہاں تک پہنچنا ناممکن لگ رہا تھا۔ عمران نے ہمت نہ ہاری اور اپنے ایک دوست کے ساتھ تیرتے ہوئے اس گھر تک پہنچا۔ انہوں نے اماں کو تسلی دی اور ان کو اور ان کے پوتے کو کندھوں پر بٹھا کر واپس محفوظ مقام پر لائے۔
اس بہادری اور جرات مندانہ کارروائی نے کئی لوگوں کی جانیں بچائیں۔ پورا دن عمران اور اس کے دوستوں نے سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالا۔ شام تک پانی کی سطح میں کچھ کمی آئی تو تباہی کا اصل اندازہ ہوا۔ مکانات کی دیواریں گر چکی تھیں، فصلیں تباہ ہو چکی تھیں اور لوگوں کا مال مویشی بہہ چکا تھا۔ گاؤں میں ہر طرف تباہی ہی تباہی تھی۔
"حکومت کی ذمہ داریاں اور بحالی کے اقدامات"
سیلاب کا قہر تھمنے کے بعد گاؤں کی حالت دگرگوں ہو چکی تھی۔ مقامی حکومت نے امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا مگر یہ ناکافی تھیں۔ اس وقت قومی سطح پر حکومت کو جامع اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت تھی۔
1. فوری امداد اور بحالی:
حکومت کو سب سے پہلے متاثرین کو خوراک، صاف پانی، اور طبی سہولیات فراہم کرنی چاہئیں۔
بے گھر ہونے والے لوگوں کے لیے ہنگامی کیمپ قائم کیے جائیں، جہاں انہیں خیمے اور دیگر ضروری اشیاء مل سکیں۔
تباہ شدہ مکانات اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے فوری فنڈز جاری کیے جائیں۔
2. طویل مدتی منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات:
ڈیمز اور بیراجوں کی تعمیر: سیلاب کے پانی کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے ڈیمز اور بیراج بنائے جائیں تاکہ پانی کو محفوظ کیا جا سکے اور اسے نقصان دہ ہونے سے روکا جا سکے۔
دریاؤں کی باقاعدہ صفائی: دریاؤں اور نالوں میں جمے ہوئے مٹی اور ملبے کو باقاعدگی سے صاف کیا جائے تاکہ پانی کا بہاؤ ہموار رہے۔
مضبوط فلڈ پروٹیکشن والز: دریاؤں کے کناروں پر مضبوط اور جدید ٹیکنالوجی سے بنے ہوئے بند اور دیواریں تعمیر کی جائیں جو پانی کے زیادہ دباؤ کو برداشت کر سکیں۔
ارلی وارننگ سسٹم کا قیام: جدید سیٹلائٹ اور موسمیاتی ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے ایک مؤثر ارلی وارننگ سسٹم قائم کیا جائے جو سیلاب سے پہلے ہی خطرے کی وارننگ دے سکے۔
3. آگاہی اور تعلیم:
عوام کو قدرتی آفات سے بچاؤ اور ہنگامی حالات میں اپنی حفاظت کے طریقوں کے بارے میں تعلیم دی جائے۔
اسکولوں میں اس موضوع پر مضامین شامل کیے جائیں اور عوام کو معلومات فراہم کرنے کے لیے سیمینار اور ورکشاپس منعقد کیے جائیں۔
4. اقتصادی بحالی:
سیلاب سے تباہ ہونے والی فصلوں اور کھیتوں کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے تاکہ کسان دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔
چھوٹے کاروباروں اور دکانوں کو بحال کرنے کے لیے قرضوں اور مالی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
گاؤں کھیڑا کا سیلاب ایک سبق آموز داستان تھی، جس نے دکھایا کہ فطرت کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے، مگر اس کے نقصانات کو کم کرنا ممکن ہے۔ حکومت کو ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر ایک ایسی حکمت عملی اپنانی چاہیے جو نہ صرف موجودہ خطرات کو روکے بلکہ مستقبل کے لیے بھی ایک محفوظ اور مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھے۔ عمران جیسے بہادر نوجوانوں کی قربانی اور عزم کو سلام ہے، جنہوں نے اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔